پنجاب حکومت کا مرحلہ وار وکلاء کے مسائل کو حل کرنے کے لئے عملی اقدامات کا سلسلہ جاری رحیم یار خان، چنیوٹ، لیہ، اور بہاولنگر بار ایسوسی ایشنز کے صدور و جنرل سیکرٹریزکی لاہور آمد پنجاب حکومت کی جانب سے 2 کروڑ روپے کی گرانٹس دیں گئیں

پنجاب حکومت کا مرحلہ وار وکلاء کے مسائل کو حل کرنے کے لئے عملی اقدامات کا سلسلہ جاری

رحیم یار خان، چنیوٹ، لیہ، اور بہاولنگر بار ایسوسی ایشنز کے صدور و جنرل سیکرٹریزکی لاہور آمد

پنجاب حکومت کی جانب سے 2 کروڑ روپے کی گرانٹس دیں گئیں

بارز کے مسائل کے فوری حل کیلئے کئے جانے والے حکومت پنجاب کے اقدامات قابل ستائش ہیں۔ صدورو جنرل سیکرٹریز

پنجاب کی تاریخی میں پہلی بار عملی طورپر وکلاء کے مسائل کو حل کیا جا رہا ہے۔صوبائی وزیر قانون

 ینگ وکلا کی تربیت کے لیے پروگرامز بھی تیار کیے جارہے ہیں۔ وزیر قانون ملک صہیب احمد بھرتھ

بارز میں خواتین وکلاء کے لئے ڈے کیئر سنٹرز بنائیں گے۔ صوبائی وزیر قانون



لاہور :- پنجاب حکومت مرحلہ وار وکلاء کے مسائل حل کے لئے عملی اقدامات کررہی ہے۔ صوبائی وزیر قانون ملک صہیب احمد بھرتھ کی دعوت پر رحیم یار خان، چنیوٹ، لیہ، اور بہاولنگر بار ایسوسی ایشنز کے صدور و جنرل سیکرٹریز صوبائی وزیر قانون ملک صہیب احمد بھرتھ اور پارلیمانی سیکرٹری قانون خالد رانجھا سے ملاقات کے لئے  لاہور آئے۔ ملاقات میں بار ایسوسی ایشنز کے صدور زاہد بنگش ایڈووکیٹ (رحیم یار خان)، شیخ مہتاب ایڈووکیٹ (لیہ)، ملک فضل حیسن ایڈووکیٹ (چنیوٹ) اور مرزا اعظم (بہاولنگر) شامل تھے۔ جنرل سیکرٹریز بار اور سیکرٹری قانون پنجاب بلال احمد لودھی بھی ملاقات کے موقع پر موجود تھے۔ اس دوران پنجاب حکومت نے مختلف بار ایسوسی ایشنز کو گرانٹس فراہم کیں۔ بارز میں مجموعی طور پر  دو کروڑ روپے کے چیکس تقسیم کیے گئے ہیں۔ بہاولنگر بار کو 50 لاکھ، چنیوٹ بار کو 50 لاکھ، لیہ بار کو 50 لاکھ اور رحیم یار خان بار کو بھی 50 لاکھ روپے کی گرانٹس دی گئیں۔ یہ گرانٹس ای لائبریری، کنٹین، بار رومز کی تزئین و آرائش، سولر پینلز، کتب کی خریداری، بجلی اور دیگر بنیادی مسائل کے حل کے لیے استعمال کی جائیں گی۔ملاقات میں وکلاء کے لیے کئی اہم مسائل پر بات چیت کی گئی، جن میں فی میل بار اور چیمبر کی تعمیر، پارکنگ کی سہولیات، نوجوان وکلا کے لیے خصوصی پروگرام، ای لائبریری، قانونی کتب کی فراہمی، وکلا چیمبرز، جیل کا قیام، وکلا کا علاج معالجہ، وکلا کالونی، واش رومز کی کمی، وکلا فنڈز، اور بار رومز کی تزئین و آرائش شامل تھے۔ صدور اور جنرل سیکرٹریز نے حکومت کے فوری اقدامات کی تعریف کی۔چنیوٹ بار کے صدر نے فیصل آباد چنیوٹ روڈ کی تعمیر کو قابل تحسین قرار دیا، جبکہ لیہ بار کے صدر نے وکلا کے مسائل کے حل کو ہوا کی ایک ٹھنڈی ہوا جیسا بتایا۔ بہاولنگر بار کے صدر نے نواز شریف اور شہباز شریف کے دور میں جنوبی پنجاب کے اضلاع میں ہونے والی ترقی کا ذکر کیا۔صوبائی وزیر قانون ملک صہیب احمد بھرتھ  کا اس موقع پر کہنا تھا کہ پنجاب کی تاریخ میں پہلی بار عملی طور پر وکلاء کے مسائل کو حل کیا جا رہا ہے۔ اُن کا کہنا تھا کہ ینگ وکلا کی تربیت کے لیے پروگرامز بھی تیار کیے جارہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وکلا اور حکومت ایک ہی ٹیم کی طرح کام کر رہے ہیں۔وزیر قانون ملک صہیب احمد بھرتھ نے کا کہنا تھا کہ بارز میں خواتین وکلا کے لیے ڈے کیئر سینٹر قائم کئے جائیں گے انہوں نے واضح کیا کہ وکلا کے مسائل کو  مستقل بنیادوں پر مرحلہ وار حل کیا جا رہا ہے کیونکہ وزیر اعلیٰ پنجاب بھی وکلا کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے میں دلچسپی رکھتی ہیں پارلیمانی سیکرٹری قانون خالد رانجھا کا اس موقع پر کہنا تھا کہ وکلا کے مسائل کو حل کرنے کے لیے ہر ممکن اقدامات اُٹھائے جارہے ہیں -

٭٭٭٭٭٭٭٭