وزیر اعلیٰ پنجاب مریم۔نواز شریف کا مثالی منصوبہ دور دراز علاقوں میں لوگوں کو گھروں کی دہلیز پر علاج کی سہولیات فراہم کر رہا ہے وزیر خزانہ پنجاب مجتبی شجاع الرحمان

وزیر خزانہ پنجاب مجتبی شجاع الرحمان نے کہا ہے کہ صحت کے شعبہ میں۔ کلینکس ان ویلز وزیر اعلیٰ پنجاب مریم۔نواز شریف کا مثالی منصوبہ ہے جو دور دراز علاقوں میں لوگوں کو گھروں کی دہلیز پر علاج کی سہولیات فراہم کر رہا ہے۔ ڈسٹرکٹ اور تحصیل کی سطح  پر ہسپتالوں کی اپ گریڈیشن کے ساتھ موبائل اور فیلڈ ہسپتالوں کا قیام صوبے میں ابادی کے اعتبار سے علاج کی ناکافی سہولیات کی کمی کو پورا کر رہا ہے۔ ایمرجنسی سروسز میں بہتری شرح اموات میں کمی کا سبب بن رہی ہے۔

صوبائی وزیر لاہور کے ایک نجی ہوٹل میں فیملی فزیشن اکیڈمی کے زیر اہتمام فیملی کون کی 34ویں سالانہ انٹرنیشنل کانفرنس میں بطور مہمانِ خصوصی شریک تھے۔ کانفرنس کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ پنجاب حکومت صحت کے شعبہ میں بھر پور سرمایہ کاری کر رہی ہے۔  صوبے میں سماجی تحفظ کے منصوبہ جات پر سرمایہ کاری بڑھانے کے لیے پبلک فنانس مینجمنٹ کو بہتر بنایا جا رہا ہے۔ان لائن وصولیاں ٹیکس سسٹم میں شفافیت  کے ساتھ ٹیکس دہندگان کے اعتماد میں اضافے کو یقینی بنا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ صحت کے میدان میں نجی شعبہ بالخصوص۔ فیملی فزیشنز کی خدمات بھی قابل تحسین ہیں۔ فیملی فزیشن ابادی کے ایک بڑے حصے کو علاج کی سہولیات مہیا کر رہے پیں۔ صوبائی وزیر نے ڈینگی اور کووویڈ جیسے  وبائی امراض کے دوران فیملی فزیشنز کی خدمات پر تشکر کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ڈینگی کے شدید حملوں اور کوویڈ کے دوران جب شہریوں کی بڑی تعداد ہسپتالوں کا رخ کر رہی تھ  فیملی فزیشنز نے  کمیونٹی کی سطح پر اپنے کلینکس میں علاج کی سہولیات مہیا کر کے سرکاری ہسپتالوں پر بوجھ کو کنٹرول کیا اور زندگیاں خطرے میں ڈال کر مریضوں کا علاج کیا۔ صوبائی وزیر نے فیملی فزیشنز کی پیشہ ورانہ کارکردگی میں بہتری  کے لیے ریفریشر کورسز اور جدید تربیت کی فراہمی کے عزم کا اظہار کرتے  ہوئے کہا کہ پنجاب حکومت فیملی فزیشنز کے لیے سرکاری سطح پر تربیتی پروگرامز متعارف کروائے گی۔ فیملی فزیشنز کے جائز مطالبات پورے کیے جائیں گے۔فیملی کون کانفرنس میں زیر بحث آنے والے مسائل کے حل کو یقینی بنایا جائے گا۔صوبائی وزیر نے فارمیسیز میں بغیر نسخے کے ادویات کی فروخت پر پابندی لگانے اور اتائیوں اور غیر مستند ڈاکٹرز کے خلاف قانونی چارہ جوئی کا عندیہ بھی دیا تاکہ  صوبے میں معیاری علاج کو یقینی بنایا جا سکے۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ شوگر اور ہائی بلڈ پریشر کی بروقت اسکریننگ سے ہارٹ اٹیک کی شرح کو کم کیا جا سکتا ہے، اس حوالے سے فیملی فزیشنز کی استعداد کار میں اضافے کو یقینی بنایا جائے گا۔

کانفرنس کے دیگر شرکاء  میں ڈاکٹر طارق محمود میاں، ڈاکٹر سعید احمد، ڈاکٹر طاہر چوہدری، ڈاکٹر ناہید ندیم، ڈاکٹر امجد قریشی، اوروائس چانسلر فاطمہ جناح میڈیکل یونیورسٹی پروفیسر خالد مسعود گوندل شامل تھے۔

٭٭٭٭