پاکستان میں ایشیاء پیسفک ارتھ کوئیک ایکسرسائز 2024 کا انعقاد پاکستان لیے اعزاز کی بات ہے صوبائی وزیر برائے ایمرجنسی سروسز خواجہ سلمان رفیق

اکستان میں ایشیاء پیسفک ارتھ کوئیک ایکسرسائز 2024 کا انعقاد پاکستان لیے اعزاز کی بات ہے،  

اقوام متحدہ انسراگ ایشیا پیسفک زلزلہ رسپانس ایکسرسائز-24 لاہور پاکستان  میں کامیابی سے اختتام پذیر ہوگئی

لاہور :- اقوام متحدہ انسراگ ایشیا پیسفک زلزلہ رسپانس ایکسرسائز (APERE-2024) کامیابی کے ساتھ لاہور، پاکستان میں اختتام پذیر ہوئی۔اقوامِ متحدہ انسراگ ایشیا پیسفک ارتھ کوئیک ایکسرسائز کا مقصد ایمرجنسی سروسز، بین الااقوامی ایجنسیز کی صلاحیتوں کی بہتری، تربیت کے ذریعے علاقائی سطح پر تیاری اور کوارڈینیشن کو مزید بہتر کرنا ہے، ایکسرسائز میں مختلف ممالک کے شرکاء کو ایمرجنسی پروٹوکولز کی جانچ، مواصلاتی نظام میں بہتری، اور زلزلوں کے پیش نظر کمیونٹی کی شرکت سے  ایمرجنسی کیصورت میں بہتر اور کورڈینیڈڈ ریسپانس کی تیاری ہے۔ ایشیا پیسفک ارتھ کوئیک ایکسرسائز-2024  میں 23 ممالک، 30 ہیومن پارٹنرز تنظیموں کے کل 274 بین الاقوامی مندوبین نے شرکت کی۔

حکومت پنجاب، پاکستان کی جانب سے، صوبائی وزیر برائے ایمرجنسی سروسز خواجہ سلمان رفیق نے ایکسرسائز میں شریک معزز مندوبین کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ریسکیو ٹیم اقوام متحدہ کے بین الاقوامی سرچ اینڈ ریسکیو ایڈوائزری گروپ (UN-INSARAG) سے سرٹیفائڈہے، اور اس سال پاکستان ایشیا پیسفک ریجن کا چیئر ہولڈد جس کے نتیجہ میں پاکستان ریسکیو ٹیم نے اس ایکسرسائز کی میزبانی کی۔ انہوں نے عالمی تعاون کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا، ''امداد باہمی سے نہ صرف ہم نے اپنی ریسکیو کی صلاحیتوں کو بڑھایا ہے بلکہ اس سے بین الاقوامی تعاون بھی مزید بہتر ہوا ہے۔ پاکستان کے لئے اس عالمی ایونٹ کی میزبانی کرنا عزت کی بات تھی اور مجھے یقین ہے کہ ہم نے ایک دوسرے کے تجربات سے ریسکیو کے متعلق بہت کچھ سیکھا ہے۔'' انہوں نے ڈاکٹر رضوان نصیر اور ان کی ٹیم کو اس اہم ایونٹ کے انتظامات کرنے پر مبارکباد دی۔ مندوبین سے خطاب کرتے ہوئے مزید کہا کہ مجھے یقین ہے کہ آپ نے نہ صرف APERE سے بہت کچھ سیکھا ہے بلکہ APERE سے انسانیت اور بھائی چارے کا پیغام بھی لے کر جا رہے ہیں، انھوں نے اس ایکسرسائز کے انعقاد میں مصروف کار رہنے والے تمام اداروں کا شکریہ ادا کیا

سیکرٹری ایمرجنسی سروسز ڈاکٹر رضوان نصیر نے بین الاقوامی مندوبین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے  کہا کہ ایشیا پیسفک زلزلہ ایکسرسائز بین الاقوامی ممالک کے درمیان ریسکیو سروسز کے باہمی تعاون کو مضبوط بنانے اور آپس میں رابطوں کو بہتر بنائے میں معاون ثابت ہو گی۔ ڈاکٹر رضوان نے پنجاب ایمرجنسی سروس کے آغاز سے  UN-INSARAG کی سرٹیفیکیشن حاصل کرنے تک کے سفرمیں اقوام متحدہ انسراگ کے کردار کو سراہا، اور کہا یہ ایک خواب لگتا ہے کیونکہ آج سے 20 سال پہلے ہر کوئی اسے ناممکن کہتا تھا اور ریسکیو اپنے مربوط ایمرجنسی مینجمنٹ سسٹم کے تحت 15.9 لاکھ سے زائد متاثرین کو ریسکیو سروسز فراہم کر چکا ہے اختتامی تقریب میں ڈاکٹر رضوان نے حادثات کے دوران باہمی تعاون کی اہمیت کو دوبارہ اجاگر کیا اور تمام اسٹیک ہولڈرز کو ایک محفوظ مستقبل کے لئے مل کر کام کرنے کی ترغیب دی۔

اس موقع پر، پارلیمانی سیکرٹری برائے ایمرجنسی سروسز مسٹر ضیا اللہ شاہ نے بھی عالمی مندوبین،اقوام متحدہ کی ایجنسیوں اور بین الاقوامی ریسکیو ٹیموں کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے UN-INSARAG ارتھ کوئیک ایکسرسائز کے دوران دکھائے گئے پیشہ ورانہ مہارت اور لگن کی تعریف کی۔ انہوں نے اقوام متحدہ کے کلیدی کردار،بین الاقوامی اداروں اور محکموں کے ساتھ ساتھ پاکستان ریسکیو ٹیم کا بھی خصوصی طور پر شکریہ ادا کیا۔

آخر میں  UN INSARAG  گلوبل لیڈجناب ونسٹن چانگ وی شن نے منتظمین، EXCON اور تمام شرکاء کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے ایشیا پیسفک زلزلہ رسپانس ایکسرسائز (APERE-2024) کی کامیابی میں اپنا کلیدی حصہ ڈالا۔ انہوں نے تقریب کی احسن طریقے سے میزبانی کرنے پر حکومت پاکستان کا خصوصی شکریہ ادا کیا اور ایمرجنسی ریسپانس ٹیموں کے درمیان باہمی تعاون کو اجاگر کرنے پرمنتظمین اور معاون ٹیموں کی بھی تعریف کی۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کی مشقیں ڈزاسڑر سے دوچار ممالک کی رسپانس کی صلاحیتوں اور منصوبوں کی جانچ اور بہتری کے لئے انتہائی اہم ہیں۔ انہوں نے تمام شرکاء کے فیڈبیک کی اہمیت پر زور دیا تاکہ آئندہ ہنگامی صورتحال سے نبٹنے کے لیے اپنی امدادی صلاحیت اور تیاری کو مزید بہتر بنایا جا سکے۔ اخر پہ انہوں نے سب کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ میں اگلی ایشیا پیسفک ایمرجنسی ایکسرسائزکے لئے منتظر رہوں گا۔ارتھ کوئیک ایکسرسائز پہ شرکاء کو سرٹیفیک اور انٹر نیشنل وفود میں یادگاری شیلڈز دی گی-

٭٭٭٭