تاریخ کی پہلی حقیقی کسان دوست حکومت، شب وروز محنت رنگ لانے لگی
رائس کی پیداوار میں اضافہ متوقع، ایک ارب ڈالر ایکسپورٹ بڑھنے کا امکان،گزشتہ برس 4ارب ڈالر رائس ایکسپورٹ،رواں سال 5ارب ڈالر ایکسپورٹ متوقع
چاول کے زیر کاشت رقبے اور پیداوار میں بھرپور اضافے کا امکان، پنجاب میں گندم کی پیداوار میں 30فیصد اضافے کی پیشگوئی
پنجاب میں ٹماٹر اورپیاز کی بے موسمی کاشت کے لئے 2،2ہزار ایکڑ اراضی مختص،1762ایکڑ اراضی پر ٹماٹر کی بے موسمی کاشت مکمل
وزیراعلی مریم نوازکی زرعی پیداوار میں اضافے کیلئے ٹیکنالوجی پر زیادہ سے زیادہ انحصار کی ہدایت، زیر کاشت سرکاری رقبے پر گندم کی کاشت لازم قرار
کاشتکار کو گندم کی فصل کیلئے بیج او رکھاد سمیت دیگر زرعی مداخل سستے دستیاب ہو نگے،سائٹیفک طریقہ کار اختیار اور مشینری کا استعمال کیاجائے:
ٹماٹر اورپیاز کے زیر کاشت رقبے میں 5فیصد،پیداوار میں 10فیصد اضافے کی توقع، پنجاب میں امدادی نرخ پر کاشتکارو ں کو 737سپر سیڈر مہیا کئے جا چکے
993 ایگریکلچر گریجوایٹ گندم کی زیادہ پیداوار کیلئے کاشتکاروں کی پیشہ وارانہ رہنمائی کررہے ہیں، پنجاب میں 4ایگری مال کی تعمیر تیزی سے جاری
11لاکھ 42ہزار کاشتکار کسان کارڈ کیلئے رجسٹریشن کرا چکے ہیں،4لاکھ 17ہزار سے زائد کسان کارڈ پرنٹ ہو گئے، 3لاکھ سے زائد کسان کارڈ کاشتکاروں تک پہنچ چکے ہیں
15 لاکھ کاشتکارسی ایم گرین ٹریکٹر پروگرام پورٹل پر آچکے ہیں، 10لاکھ درخواستیں دے چکے ہیں، 9500 ٹریکٹرز کیلئے قرعہ اندازی ہوگی
لاہور ……تاریخ کی پہلی حقیقی کسان دوست حکومت، شب وروز محنت رنگ لانے لگی-وزیراعلی پنجاب مریم نوازشریف کی زیرصدارت خصوصی اجلاس منعقد ہوا،اجلاس میں پنجاب میں ایگری کلچر سے متعلق امور پر تفصیلی بریفنگ دی گئی-اجلاس میں بتایا گیا کہ پنجاب میں رائس کی پیداوار میں اضافہ متوقع ہے،جس سے ایک ارب ڈالر ایکسپورٹ بڑھنے کا امکان ہے- گزشتہ برس 4ارب ڈالر رائس ایکسپورٹ ہواہے جبکہ رواں سال 5ارب ڈالر ایکسپورٹ متوقع ہے-چاول کے زیر کاشت رقبے اور پیداوار میں بھرپور اضافے کا امکان ہے- پنجاب میں گندم کی پیداوار میں 30فیصد اضافے کی پیشگوئی کی گئی ہے-پنجاب بھر میں زیر کاشت سرکاری رقبے پر گندم کی کاشت لازمی قراردی گئی ہے-وزیراعلی مریم نوازشریف نے زرعی پیداوار میں اضافے کے لئے ٹیکنالوجی پر زیادہ سے زیادہ انحصار کی ہدایت کی اور کہاکہ پیداوار میں اضافے کے لئے جدید او رسائٹیفک طریقہ کار اختیار اور مشینری کا استعمال کیاجائے - پنجاب کے کاشتکار کو گندم کی فصل کے لئے بیج او رکھاد سمیت دیگر زرعی مداخل سستے دستیاب ہو ں گے- بریفنگ کے دوران اجلاس کومزید بتایا گیا کہ پنجاب میں 11لاکھ 42ہزار کاشتکار کسان کارڈ کے لئے رجسٹریشن کرا چکے ہیں -4لاکھ 17ہزار سے زائد کسان کارڈ پرنٹ جبکہ 3لاکھ کسان کارڈ کاشتکاروں تک پہنچ چکے ہیں -2 لاکھ 96ہزار سے زائدکسان کارڈ ایکٹی ویٹ ہو چکے ہیں - 5لاکھ سے زائد کاشتکار کسان کارڈ وصول کرچکے ہیں -کسان کارڈ کے لئے پنجاب بھر میں 2600 ڈیلر رجسٹر ہوچکے ہیں -15 لاکھ کاشتکارسی ایم گرین ٹریکٹر پروگرام پورٹل پر آچکے ہیں، 10لاکھ درخوست کنندگان کے درمیان 9500 ٹریکٹرز کے لئے قرعہ اندازی ہوگی - سی ایم گرین ٹریکٹر سکیم پروگرام کے لئے اپلائی کرنے والوں میں 5ایکڑ اراضی کے 64فیصد، ساڑھے 12ایکڑ اراضی مالکان کا تناسب28فیصد جبکہ 50ایکڑ تک اپلائی کرنے والوں کاتناسب 8فیصد ہے- پنجاب بھر میں 993 ایگریکلچر گریجوایٹ گندم کی زیادہ پیداوار کے لئے کاشتکاروں کی پیشہ وارانہ رہنمائی کررہے ہیں - پنجاب میں 4ایگری مال کی تعمیر تیزی سے جاری ہے -پنجا ب بھر میں حکومت پنجاب کے امدادی نرخ پر کاشتکارو ں کو 737سپر سیڈر مہیا کئے جا چکے ہیں - بریفنگ کے دوران مزید بتایا گیا کہ پنجاب میں ٹماٹر اورپیاز کی بے موسمی کاشت کے لئے 2،2ہزار ایکڑ اراضی مختص کی گئی ہے-1762ایکڑ اراضی پر ٹماٹر کی بے موسمی کاشت مکمل ہوچکی ہے- ٹماٹر اورپیاز کے زیر کاشت رقبے میں 5فیصد جبکہ پیداوار میں 10فیصد اضافے کی توقع ہے- پنجاب میں 12ہزار ایکڑ پر ٹماٹر اورپیاز کاشت کیا جا رہاہے -پنجاب بھر میں کارپوریٹ فارمنگ کے لئے82فارمر گروپ رجسٹرڈ ہو چکے ہیں -
٭٭٭٭






.jpeg)